الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

ہندوستان سے ہجرت

سوال

اگر کثرت ہنود اپنی حکومت کے زعم میں اقلیت مسلم کو یہ کہے کہ اگر تم کو اپنے دین اسلام کے اصول کے پابند رہنے کی خواہش ہے تو اپنے پاکستان چلے جائیے۔ اگر یہیں رہنا چاہو تو مذہب ہنود اختیار کیجئے۔ اور اگر دونوں باتیں قبول نہیں ہیں تو تمہاری جان خطرہ میں ہے۔ ایسے وقت میں بیچارے غریب مسلمان کیا کریں۔ آیا مسجدیں، مدارس نیز بزرگانِ دین کے مزارات چھوڑ کر چلے جائیں یا ہندو بن جائیں یا مر کر جان دیدیں۔ فرمائیے۔ایسی ذلت وخواری سے قتل ہو کر مر جانا باعث شہادت بھی ہے یا نہیں، ہماری حرام موت تو نہیں ہوگی؟

جواب

مذہب تبدیل کرنا یعنی اسلام ترک کر کے (معاذ اللہ) کفر کو اختیار کرنا ہرگز ہرگز جائز نہیں، جان اللہ تعالیٰ نے اسلام کو اختیار کرنے، اس پر باقی رہنے اور اس کی اشاعت کرنے کے لئے دی ہے۔ پس اگر اسلام پر قائم رہنے اور حفاظت کرنے کی خاطر جان کام آجائے تو عین سعادت اور شہادت ہے۔ یہ حرام موت ہر گز نہیں، اس سے نہیں گھبرانا چاہئے۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو