الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

حفاظت کی غرض سے مکان یا بستی چھوڑ دینا

سوال

اکثر بلاد میں فساد کا سلسلہ شروع ہے کوئی شہر محفوظ نہیں شرائط کے نہ پائے جانے کی وجہ سے جہاد کا حکم نہیں ہے اور سامان حرب نہ ہونے کی وجہ سے کافی نقصان کا سامنا کرنا پڑتا ہے جان ومال عزت وآبرو ہر چیز کی قربانی دینی پڑتی ہے ایسی صورت میں شرع کا کیا حکم ہے کہ جب ہمارے شہر میں فساد کا خطرہ مخصوص اوقات میں ہے تو اس شہر میں رہ کر جان ومال عزت وآبرو سب کچھ قربان کر دیں کیوں کہ بلوائیوں کا مقابلہ تو کر نہیں سکتے یا مخصوص ایام میں چند دنوں کے لئے شہر چھوڑ کر محفوظ مقامات دیہات وغیرہ میں چلے جائیں اگر اس شہر میں رہنے کا حکم…

جواب

جو شخص ایک بستی میں رہتے ہوئے اپنے آپ کو محفوظ نہیں پاتا بلکہ دشمنوں میں گھرا ہوا پاتا ہے اور اس کو اپنی جان کا ایمان کا اولاد کا مال کا خطرہ ہے تو اس کو اجازت ہے کہ اس جگہ سے نکل کر کسی محفوظ جگہ پر چلا جائے خواہ اسی بستی میں دوسرے مکان یا دوسرے محلہ میں یا پھر دوسری بستی میں۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو