روضہ اقدس پر گنبد
سوال
ارشاد ہوتا ہے کہ تم سے پہلی قوموں نے انبیاء اور اولیاء کی قبروں کو مساجد بنالیا تم ایسا ہر گز نہ کرنا، اور لعن الله اليهود والنصارى جعلوا قبور انبيائهم مساجد كما قال. سوال یہ ہے کہ ان صریح احکامات کے بعد رسول اللہ ﷺ کی قبر مبارک کیوں صحن مسجد نبوی میں بنائی گئی اور پکی قبر پختہ قبہ کیوں بنایا گیا، اور العلماء ورثة الانبیاء کو مد نظر رکھتے ہوئے پھر ان کیلئے بھی یہ جائز اور درست ہونا چاہئے یا پھر چوں کفر از کعبہ برخیزد کجا ماند مسلمانی - وما توفيقي الا بالله.
جواب
صحن مسجد میں قبر شریف نہیں بنائی گئی بلکہ وہ تو حجرہ شریفہ میں ہے، پھر مسجد شریف کی توسیع کی گئی اسلئے وہ حجرہ شریفہ مسجد کے اندر آ گیا اسکے طرف دیواریں ہیں وہ سجدہ گاہ نہیں ہے، اگر ایسا ہوتا تو اسکی طرف پشت کر کے نماز ادا نہ کی جاتی، قبر شریف پر پختہ قبہ بھی نہیں بنایا گیا بلکہ اسپر تو کوئی بھی تعمیر نہیں، قبہ تو حجرہ شریفہ پر بنایا گیا جو کہ قبر شریف سے پہلے سے بنا ہوا ہے،…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔