الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

روضہ اقدس پر گنبد

سوال

حضور سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کا مزار، گنبد پختہ کیوں بنایا گیا، کیا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات میں اس کا انتظام کیا گیا تھا، یا بعد وصال خلیفہ اور صحابۂ کرام کے وقت شرعی اسلامی حکومت میں بنایا گیا اور آپ کا اصلی مقام تو بالکل خام ہے اور کس نے بنوایا تھا اور کیا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے مزار مبارک پر اگر بتی، لوبان، عود، پھول وغیرہ سلگایا جاتا ہے؟

جواب

اصل مقام تو اب بھی خام ہے ولید بن عبد الملک کے زمانہ میں حجرۂ خام کو گرا کر منقش پتھروں سے تعمیر کیا گیا اور ایک خطیرہ بنایا گیا حضرت عروہ رضی اللہ عنہ نے منع بھی کیا لیکن ان کی شنوائی نہ ہوئی، پھر وقتاً فوقتاً تغییر و تزئین ہوتی رہی، حتی کہ ۶۷۸ھ میں قبۂ خضراء تعمیر کیا گیا، (جذب القلوب) اور اب اصل مزار تک پہنچنے ہی کی جگہ نہیں پھر پھول لوبان وغیرہ کی گنجائش کہاں۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو