مشائخ وسادات کی قبر پر قبہ
سوال
مولوی امجد علی صاحب رضوی بریلوی نے اپنی کتاب ” بہار شریعت میں مسائل ذیل لکھے ہیں، یہ کتاب ہزاروں کے یہاں معمول بہا ہے، مگر مجھ کو غلط معلوم ہوتی ہے، آپ تصحیح فرمادیں غلط ہوں تو تردید لکھ دیں۔ مسئلہ اولی: ص:۱۵۳ حصہ چہارم میں ہے، علماء مشائخ و سادات کی قبور پر قبہ وغیرہ بنانے میں حرج نہیں اور قبر کو پختہ نہ کیا جاوے (در مختار اور ردالمختار) یعنی اندر سے پختہ نہ کیا جاوے اور اگر اندر خام ہوا اوپر سے پختہ ہو تو حرج نہیں۔ فقط عبارت ختم ہوئی۔
جواب
اس کتاب کے مسائل کا پورا حال تو اصل کتاب کے دیکھنے سے معلوم ہوگا لیکن مسائل مذکورہ کا جواب یہ ہے۔ (مسئله اولی) در مختار میں مذکور نہیں ہے درمختار کی عبارت یہ ہے ولا يطين ولا يرفع عليه بناء وقيل لا بأس به وهو المختار كما في كراهة السراجية اس عبارت میں علماء مشائخ، سادات کا ذکر تک نہیں، نیز اس عبارت کو فتاوی سراجیہ سے نقل کیا ہے اور نقل میں تقدیم و تاخیر ہوگئی، جیسا کہ علامہ…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔