الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

ایصالِ ثواب کیلئے اجارہ

سوال

جس شخص کے یہاں میت ہو جاتی ہے وہ تین چار مولویوں کو جمع کر کے متوفی کی قبر پر بیٹھا دیتا ہے کہ اتنے روز تم کو قبر پر شب و روز حاضر ہو کر قرآن شریف پڑھنا ہوگا، اس صلہ میں تم کو روٹی اور اتنی رقم دی جائے گی، شرعاً یہ کیسا ہے؟ مالا بد منہ ص: ۱۳۴ پر ہے، دراجارہ گرفتن بخواندن قرآن بر قبر میت معین و مختار آن است که جائز است - وکذافی العالمگیریہ۔ ایسا کرنے سے میت کو ثواب پہونچتا ہے کہ نہیں؟

جواب

اس طرح تلاوت قرآن پاک سے ثواب نہیں ہوتا، نہ پڑھنے والوں کو نہ میت کو رقم اور روٹی معاوضہ تلاوت میں لینے اور دینے کی وجہ سے یعنی لینے اور دینے والوں کو گناہ ہوتا ہے، جیسا کہ رد المحتار ج : ۵، کتاب الاجارہ میں تصریح ہے الأخذ والمعطى آثمان فتاوی قاضی خاں میں لکھا ہے جسکا حاصل یہ ہیکہ یہ صورت نا جائز ہے، قال تاج الشريعة في شرح الهداية ان القرآن بالاجرة لا يستحق الثواب لا للميت ولا…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو