الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

عورتوں کیلئے زیارت قبور

سوال

- عورتوں کا بزرگان دین کی زیارت کیلئے جانا کیسا ہے اور کیا بزرگان دین کی قبروں کیلئے اور قبروں پر جانا اسی میں ہے یا اس سے مستثنیٰ ہے اور مولانا کفایت اللہ صاحب دہلوی جائز فرماتے ہیں اور مولانا محمد طیب صاحب دیوبندی نا جائز فرماتے ہیں اور کتاب بہشتی زیور اور مجالس الابرار میں ایسی عورتوں پر لعنت فرماتے ہیں، کتاب رکن دین میں بھی جائز فرما رہے ہیں ہماری سمجھ میں نہیں آتا کہ یہ کیا بات ہے، اس کو مفصل تحریر فرمایئے گا، تا کہ خوب سمجھ میں آجائے۔ اور کس پر عمل کیا جائے۔

جواب

أصل یہ ہے کہ عورتوں میں تحمل کم ہوتا ہے قبروں کو دیکھ کر بسا اوقات بے صبری کی حالت میں رونا، چلانا، کپڑے پھاڑنا، مونہہ پیٹنا وغیرہ حرکات شروع کر دیتی ہیں، نیز مطلقاً عورتوں کا گھر سے نکلنا فتنہ ہے اور اس میں مفاسد کثیرہ ہیں، اس لئے ممنوع ہے، مجالس الابرار میں صحیح لکھا ہے کہ حدیث میں لعنت وارد ہوئی ہے۔ جن لوگوں نے اجازت دی ہے، انہوں نے مفاسد پر غور نہیں کیا ہوگا۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو