الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

بلا اجازت مالک اس کی زمین میں دفن کرنا

سوال

زید کے مرجانے کے بعد ورثاء یا مریدین نے بکر (مالک) وسرکاری زمین میں بغیر بکر اور سرکار سے اجازت لئے ہوئے زید کو دفن کر دیا چند ماہ بعد جب بکر مالک زمین یا سرکار کو معلوم ہوا کہ بغیر سرکاری اجازت کے زید کی نعش کو دفن کر دیا گیا ہے، اور پختہ قبر و گنبد بھی زید کا بنا دیا گیا ہے تو کیا بکر وسرکار کو قانونی حق حاصل ہے، کہ زید کو اپنی زمین میں جہاں دفن ہے، قبر کھود کر اس کو نکال دے اور اس پر کوئی گناہ نہ ہوگا، اور عام مسلمان اس لاش کو کسی قبرستان میں دفن کر دیں یا بعد دفن کرنے کے چند ماہ بعد بکر و سرکار کو حق حاصل ہے،…

جواب

ایسی صورت میں مالک زمین کو اختیار حاصل ہے کہ نعش کو نکال دے یا قبر کو زمین کے برابر کر دے اگر نعش کو باہر نکال دیا، تو عام مسلمانوں کو چاہئے کہ زید کی مملوکہ زمین یا عام موقوفہ قبرستان میں دفن کر دیں کذا فی مجمع الانہر ج: ۱، ص: ۱۸۵، پختہ قبر وگنبد بنوانا گناہ ہے۔ کذا فی شرح الكنز

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو