الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

چمار کی زمین میں میت دفن کرنا

سوال

ہمارے گاؤں والوں نے جبراً چماروں کی زمین میں اپنے مردے دفن کرنا شروع کر دیئے جب چمار مر گیا تو اسکے لڑکوں کے نام زمین ہوگئی مال گذاری دیتے رہے، اور اب چک بندی میں چماروں نے یہ کھیت مولی بخش سے بدل لیا، دریافت طلب یہ ہے کہ مولی بخش کو اس کھیت سے انتفاع جائز ہے یا نہیں؟ (۲) چک بندی میں گاؤں والوں نے قبرستان کیلئے زمین علیحدہ کر دی دو چار میت اس جگہ دفن بھی ہو گئیں باقی ابھی خالی پڑی ہے، تو اس کی آمدنی مسجد مدرسہ میں خرچ کرنا کیسا ہے؟

جواب

چمار کی زمین میں بلا اجازت وبلا مرضی میت دفن کرنا ظلم اور غصب ہے، جب کہ وہ زمین مولی بخش کی ملک میں آگئی ہے، تو اس کو اختیار ہے کہ جن لوگوں نے اپنی اپنی میت کو دفن کیا ہے، وہ ان سے کہہ دے کہ یہاں سے اپنی میت کو نکال کر دوسری جگہ دفن کر دو ورنہ میں یہاں کھیتی کروں گا، پھر اس کو کھیتی کرنا مکان بنانا سب درست ہے: ولا يخرج منه بعد اهالة التراب الالحق آدمی بان تکون الارض مغصوبة او…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو