قبر کتنی گہری ہونی چاہئے؟
سوال
بعض ملکوں میں قبر اس طرح سے کھودی جاتی ہے کہ اس کی گہرائی ڈیڑھ یا دوگز ہوتی ہے، اور اس کی سیڑھی دو یا تین انچ زمین کے بالائی حصہ سے نیچے بنائی جاتی ہے تا کہ اس پر رکھ کر مٹی سے قبر برابر کر دی جائے، اب جواب طلب یہ ہے کہ مذکورہ بالا صورت شق میں داخل ہوگی یا نہیں اگر نہیں ہے، تو اس قسم کی قبر شرعاً جائز ہے، یا نہیں؟ لحد اور شق کے علاوہ بھی کوئی صورت شریعت میں بتائی گئی ہے؟ نیز شق کی تعریف کیا ہے؟ اور قبر شرعی کتنی کھودی جائے اور شق کی صورت پر تختہ یا بانس میت سے کتنا اوپر رکھا جائے؟ بینوا بالکتاب
جواب
اس طرح قبر بنانا خلاف سنت ہے، یا میت کیلئے لحد بنائی جائے یعنی قبر کھود کر جانب قبلہ میں ایک دوسرا گڑھا جسم میت کے مناسب بنایا جائے کہ اس میں میت کو داخل کر کے کچی اینٹیں اس پر لگادی جائیں، اگر زمین نرم ہو تو پھر شق بنادی جائے اس طرح کہ قبر کھود کر پھر درمیان قبر میں ایک اور گڑھا جسم میت کے مناسب بنا کر اس میں میت کو رکھ کر اس پر بانس وغیرہ رکھ دیا جائے، اور مٹی کے ڈھیلوں سے…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔