میت کو بعد دفن منتقل کرنا / (بادشاه بهادر شاہ ظفر سے متعلق)
سوال
حضرت محترم دامت برکاتہم . السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاته مزاج اقدس ! جنرل شاہ نواز کے خط کی نقل ہمرشتہ ہے، اس سلسلہ میں یہ بات خاص طور سے قابل توجہ ہے، کہ حضرت مولانا ابوالکلام آزاد اور مجاہد ملت مولانا حفظ الرحمن صاحب کی زندگی میں بھی یہ مسئلہ آیا تھا، ان حضرات کا خیال تھا کہ منتقل کرنے کی صورت یہ ہونی چاہئے کہ قبر کو کھودنے اور لحد کو کھولنے کے بجائے پوری قبر اٹھائی جائے، یعنی قبر کے چاروں طرف سے دو ڈھائی گز تک زمین کو کھود کر یہ پورا ٹکڑا جس میں لحد اور قبر ہے، اس طرح اٹھا لیا جائے جیسے بڑے درخت کا پینیڈا…
جواب
اصل یہ ہے کہ آدمی کا جس بستی میں انتقال ہو اسی بستی میں اس کو دفن کیا جاوے اگر اس نے وصیت کی ہو کہ مجھ کو فلاں جگہ دفن کرنا تو اس وصیت پر عمل لازم نہیں۔ شرعاً یہ وصیت باطل ہے: يندب دفنه في جهة موته اى فى مقابر اهل المكان الذي مات فيه اوقتل اهـ (شامی ۴)
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔