نصف جلی ہوئی لاش پر نماز جنازہ
سوال
ایک گاؤں میں آگ لگی ہے لڑکی بیل گئی اور بیٹی جلی کہ سر اور پیروں تک کا پتہ نہ چلا، اس کی نماز پڑھی جانے چاہئے، نیز غسل و کفن بھی دیا جانا چاہئے تھا یا نہیں؟
جواب
اس کو نہ غسل دیا جائے گا نہ کفن پہنایا جائیگا، نہ نماز جنازہ پڑھی جائے گی، بلکہ ایک کپڑے میں لپیٹ کر دفن کر دیا جائیگا، وان وجد نصفه من غير الرأس او وجد نصفه مشقوقاً طولا فانه لا يغسل ولا يصلى عليه ويلف في خرقة ويدفن فيها . (عالمگیری، ص ۸۱)
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔