ایک عورت ڈوب گئی کئی روز بعد پانی سے نکالی گئی جسکو جانوروں نے خراب کر دیا اور نعش متعفن ہو گئی اسکے جنازہ کی نماز
سوال
ایک عورت پانی میں ڈوب گئی، دریا بڑا اور زیادہ پانی ہونے کے سبب کافی کوشش کرنے کے باوجود نعش نہ ملی، چار روز بعد جب نعش او پر آئی تو جانوروں نے اس کو خراب کیا، اور تعفن اس قدر پیدا ہوا کہ اس کی تجہیز و تکفین دستور شرع کے مطابق نہ ہو سکی، اس کو بدقت تمام وہاں سے بگی میں اُٹھا کر دفن کی جگہ تک پہنچایا گیا، جب کہ میت خراب اور تعفن ہو چکا، تو اس حالت میں نماز جنازہ کا کیا حکم ہے، اس قسم کی میت کی نماز جنازہ پڑھنی ضروری ہے یا نہیں، ایک فریق نے یہ کہا کہ لگی میں نماز پڑھا دو، دوسرے فریق نے اعتراض کیا کہ نماز بگی میں رکھی…
جواب
میت کا کچھ حصہ پانی کے جانوروں نے کھا کر خراب کر دیا ہو لیکن نصف یا اکثر حصہ موجود ہو تو اس پر پانی بہا کر کفن پہنا کر نماز جنازہ پڑھ لی جائے، بلکہ تخت یا چار پائی جس پر بھی ایسی حالت میں ممکن ہو تو نماز جنازہ پڑھ کر دفن کیا جائے، تعفن کی وجہ سے نماز ترک نہ کی جائے
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔