نماز جنازہ کی چوتھی تکبیر کے بعد ہاتھ باندھے یا چھوڑ دے؟
سوال
ایک کتاب جس کا نام خلاصۃ الفتاویٰ ہے، اسکے ص: ۲۲۵، ج:۱، میں مذکور ہے۔ (مطبوعہ نولکشور لکھنو) عبارت یہ ہے: ولا يعقد بعدا لتكبير الرابع لانه لا يبقى ذكر مسنون حتى يعقد فالصحيح انه يحل اليدين ثم يسلم تسليمتين. هكذا في الذخيرة. وهو سنة قيام له قرار فيه ذكر مسنون فيضع حالة الثناء وفي القنوت وتكبيرات الجنازة. (درمختار) ان دونوں عبارتوں کی تشریح فرمائیں اور ان عبارات کی روشنی میں اس کا حکم بھی بیان فرمائیں۔
جواب
چوتھی تکبیر کے بعد ہاتھ نہ باندھے کیونکہ کوئی ذکر مسنون باقی نہیں رہا جس کیلئے ہاتھ باندھے جائیں، پس صحیح یہ ہے کہ دونوں ہاتھ کھول دے، پھر دونوں سلام پھیرے، ایسا ہی ذخیرہ میں ہے۔ اور ہاتھ باندھنا ایسے قیام کی سنت ہے، جس کو قرار ہو (کچھ طویل ہو) اس میں ذکر مسنون ہو، پس ثنا اور قنوت اور تکبیرات جنازہ میں ہاتھ باندھے رکھے۔ (در مختار) عبارت (۱)
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔