مردہ بچہ کو بلاغسل وکفن ہنڈیا میں رکھ کر دفن کر دینا
سوال
ایک مسلمان نے اپنے بچے کو جو پیدا ہونے کے بعد چار گھنٹہ زندہ رہا، بلا غسل وکفن نماز کے ایک ہنڈیا میں بند کر کے دفن کر دیا ہے، گاؤں والے اس سے بے خبر رہے، گاؤں والوں کو دو ماہ بعد یہ خبر ملی کہ اس نے یہ فعل کیا ہے، قانون شریعت اس مسلمان کے واسطے کیا حکم دیتا ہے؟ باقی ہم لوگ اس مسئلہ سے لاعلمی رکھتے ہیں۔
جواب
اس شخص نے نہایت بیجا حرکت اور غلطی کی اسکے ذمہ لازم تھا کہ اس بچے کو باقاعدہ غسل اور کفن دیکر اس کی نماز پڑھ کر شریعت کے موافق قبر میں دفن کرتا۔ اب اسکے ذمہ یہ ضروری ہے کہ اپنی اس حرکت سے توبہ کرے اور پختہ عہد کرے کہ آئندہ ایسا ہر گز نہیں کریگا۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔