روزہ کے منکر کا حکم
سوال
زید نے بکر سے پوچھا کہ کیا تم روزہ سے ہو؟ جواب میں بکر نے کہا کہ ارے جاؤ مولویو! کیا روزہ ہمارے اوپر فرض ہے؟ اور اس نے یہ بھی کہا کہ روزہ نہیں رکھوں گا، اس پر ایک مولانا صاحب نے کہا کہ روزہ ہر ایک مسلمان پر فرض ہے اور اس کا انکار کرنے والا کافر ہوتا ہے، اسکے باوجود وہ انکار کرتا ہے اور کہتا ہے کہ میں روزہ نہیں رکھوں گا۔ کیا ہمارے پاس کھانے پینے کی کمی ہے، روزہ تو وہ شخص رکھتا ہے جس کے پاس کھانا وغیرہ نہ ہو تو ایسے شخص کو کیا کہا جائے؟ کیا ایسے شخص سے تعلق قائم رکھنا درست ہے؟
جواب
روزہ کی فرضیت نص قطعی سے ثابت ہے، اس کا انکار کفر ہے، اسی طرح یہ کہنا کہ روزہ وہ شخص رکھتا ہے جسکے پاس کھانا وغیرہ نہ ہو کلمات کفر میں سے ہے، اس کو توبہ استغفار، تجدید ایمان، تجدید نکاح لازم ہے، اس سے سلام کلام بند کر دینا چاہئے، تا کہ وہ تنگ آکر توبہ کرلے، اس کا پیسہ بھی نہ لیا جائے جب تک وہ توبہ نہ کرلے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔