نماز کے انکار سے کیا نکاح ٹوٹ جاتا ہے؟
سوال
زید اور زید کی زوجہ دونوں ساتھ میں لیٹے تھے، زید کو احتلام ہو گیا جس سے زوجہ کے بھی کپڑے خراب ہو گئے، صبح کو زید نے اپنی زوجہ سے کہا کہ جاؤ نماز پڑھو، اسپر زوجہ خاموش رہی، زید نے پھر کہا تو زوجہ نے غصہ میں کہا کہ نہیں پڑھتے جاؤ، جب دیکھو کپڑے خراب کر دیتے ہو، تو کیا اس سے نکاح ٹوٹ جائے گا، بعد میں دونوں نے توبہ کی، پھر کہا کہ میں نے اتنے مہر کے عوض تم کو دوبارہ نکاح میں قبول کر لیا تو اس طرح نکاح ہو جائیگا یا دوسرے سے ہی پڑھوانا پڑے گا؟
جواب
بیوی نے نماز کی فرضیت کا انکار نہیں کیا بلکہ کپڑے خراب کر دینے کی وجہ سے اس وقت غصہ میں آکر تنبیہ کیلئے کہ آئندہ کپڑے خراب نہ کرے یہ جملہ کہہ دیا اگر چہ ایسا کہنا بھی جائز نہیں ہے اس کو توبہ لازم ہے مگر اسکی وجہ سے نہ وہ اسلام سے خارج ہوئی نہ نکاح ختم ہوا، نکاح مرد اور عورت کم از کم دو گواہوں کے سامنے خود بھی کر سکتے ہیں، دوسرے سے پڑھوانا ضروری نہیں صورت مسئولہ میں پہلا نکاح…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔