ریا کاری کی نماز کو گالی دینا
سوال
دس سال کا عرصہ ہوا کہ مسماۃ ہندہ زوجہ زید اپنے خاوند کے ساتھ سخت بد گزران رہتی ہے سخت بے فرمان ہو کر تمام اثاث البيت، زیورات، پارچہ جات سمیٹ کر میکے میں روٹھ بیٹھی، مسماۃ ہندہ کے ورثاء نے زید کو کہا کہ تم ہندہ کو طلاق کر دو، زید نے جواب دیا میرا مال واسباب زیورات وغیرہ مجھے واپس دو، ہندہ کے ورثاء نے کہا کہ تمہارا مال زیورات وغیرہ ہندہ کے نان نفقہ میں مجری ہو گیا ہے کہ سات سال کا عرصہ ہوا وہ کیا کھائے کیا پیئے؟
جواب
تنقیح: زید نے جو یہ الفاظ کہے ہیں یا نقل کئے پہلے آپ اس سے اسکی تحقیق دریافت کر لیجئے تکفیر کا مسئلہ نہایت نازک ہے، باہمی مناقشات اور دنیوی اغراض کی بنا پر کسی کو کافر بنانے کی کوشش کرنا نہایت بُری بات ہے، اگر طلاق لینے کی ضرورت ہو تو اس سے طلاق حاصل کر لی جاوے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔