الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

نماز وغیرہ کا استہزاء

سوال

ایک مسلمان شخص جو علم شریعت سے بالکل نا واقف وبے بہرہ ہے بھنگی چرسی، افیمی بھی ہے وہ اپنی ضد اور جہالت کی وجہ سے اپنے آپ کو بزرگ گردانتا ہے، قرآن شریف وحدیث شریف کا مذاق اور مسخری کرنے کا عادی ہے، یہاں تک کہہ دیتا ہے کہ لوگ نماز ادا کرتے ہیں خواہ مخواہ سر نیچا کرتے ہیں، قرآن میں نماز ادا کرنے کا کوئی حکم نہیں، کیا ایسے شخص سے جو اسلام سے اس قدر مذاقیہ پیش آوے تعاون کرنا یا اور کسی قسم کا برتاؤ کرنا جائز ہے یا نہیں؟

جواب

نماز فرض عین ہے نص قطعی سے ثابت ہے اس کا منکر کافر ہے، نماز، قرآن شریف، حدیث شریف کا مذاق اڑانا، استہزاء کرنا کفر ہے اگر قدرت ہو تو ایسے شخص کو مناسب تنبیہ کی جاوے ورنہ اس سے ترک تعلق کر دیا جاوے، اور جماعت سنت مؤکدہ واجب کے قریب ہے، جو شخص بلا عذر شرعی دواما ترک کرے وہ گنہگار ہے، اگر اسلامی حکومت ہو تو ایسے شخص کو سخت سزا دی جاوے اور شرعاً اس کی شہادت مردود ہے، اگر کبھی اتفاق…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو