مسئلہ شرعیہ کی توہین
سوال
بعض لوگوں نے کہا ہے کہ تقریباً بارہ برس ہوئے کہ زید ولد بکر امام مسجد نے کہا کہ میرے باپ میرے اوپر اس وجہ سے ناراض ہو گئے کہ میں نے اپنی بیوی کو پردہ شرعی کرا دیا تھا اور یہ کہا کہ تیرے شرع پر بول کرتا ہوں، مگر بکر کہتا ہے کہ یہ محض بہتان ہے میں نے ہرگز ایسا کلمہ بیہودہ نہیں بکا، اور ایسے ہی اس کا لڑکا زید بھی کہتا ہے کہ میں نے ہرگز کسی سے یہ بیان نہیں کیا اور نہ ہی میرے باپ نے یہ کہا ہے محض بہتان ہے اور ہمارا اب بھی پردہ ہے، اور پھر لوگوں کے شور برپا ہونے کی وجہ سے وہ بیچارہ بکر امام مسجد کہتا ہے کہ بھائی میں نے…
جواب
اگر امام مسجد نے یہ کلمہ نہیں کہا اور نہ اس کے بیٹے نے نقل کیا تو ہر دو پر بہتان ہے جو کہ سخت گناہ ہے، بہتان لگانے والوں کے ذمہ لازم ہے کہ اس سے توبہ کریں اور امام اور اسکے بیٹے سے معافی چاہیں، واقعی تو خود امام کے ذمہ توبہ لازم ہے اور توبہ کے ساتھ تجدید ایمان اور تجدید نکاح بھی کریں، جو شخص یہ کہتا ہے کہ اسکی توبہ قبول نہیں وہ غلط کہتا ہے قرآن کریم میں موجود ہے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔