الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

جاہل بدعقیدہ کی اصلاح کا طریقہ

سوال

ایک شخص اعتقاد باطل رکھتا ہے، مثلاً کسی کام کی ابتداء میں چوگھڑیاں دیکھتا ہے کہ یہ وقت اچھا ہے یا برا جس طریقہ پر غیر مسلم دیکھتے ہیں اور کنواں کھدواتے وقت ناریل کا غیروں کے پاس پھوڑنا اور اس پر اعتقاد رکھنا اور جب تحقیق کی گئی تو جواب میں کہتا ہے کہ میں تو مانتا ہوں چاہے تم مانو یا نہ مانو حتی کہ لڑکیوں کی رخصتی میں بھی خصوصی طور پر اس کا لحاظ رکھا جاتا ہے، اب ایسے شخص سے تعلقات رکھنا اور اس کے یہاں کھانا پینا کیسا ہے؟ اور ایسا شخص جو اعتقاد باطل رکھتا ہو تو اسے دین کے کسی کام میں بڑا بنانا کیسا ہے؟

جواب

بد نصیبی ہے کہ نہ علم دین حاصل ہے نہ اہل حق علماء کی صحبت میسر ہے جس کی وجہ سے ایسی غلط چیزوں میں مبتلا ہے۔ ایسے آدمی پر فتوی لگا کر تعلق منقطع کر دینا عامۃً مفید نہیں ہوتا بلکہ مضر ہوتا ہے کہ ضد قائم ہو جاتی ہے۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو