سخت گناہوں کی وجہ سے کافر کہنا
سوال
جو شخص شراب پیتا ہے اور ماں باپ کی نافرمانی کرتا ہے اور انکی شان میں گستاخانہ لفظ استعمال کرتا ہے اور دین کی معلومات سے نا آشنا ہے اور دینی باتوں کو ٹھٹھا اور کھیل سمجھتا ہے نمازی آدمی کو بے ایمان خیال کرتا ہے اور یہ کہتا ہے ایسے لوگ ہمیشہ پریشان حال رہتے ہیں گھریلو اختلافات اور روپیہ کی لالچ کی وجہ سے اپنی بیوی کو ایک سال سے نہیں بلاتا ہے اور باپ کو چاقو دکھا کر قتل کی دھمکی دیتا ہے اس شخص کے بارے میں کیا رائے ہے؟
جواب
ایسا شخص سخت گنہگار ہے اور سوئے خاتمہ کا قوی اندیشہ ہے اللہ پاک رحم فرماوے، کافر اس کو بھی نہ کہا جائے کہ کفر کا حکم آخری حکم ہے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔