الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

مشرکانہ طریقہ پر کنویں کے افتتاح میں شرکت

سوال

ایک مسلم شخص نے کنواں کھدوانا شروع کیا، افتتاح تو دو مولوی صاحب اور ایک قاضی امام صاحب کے ہاتھوں ہوا لیکن اس طرح چوں کہ کھودنے والے غیر مسلم تھے انہوں نے ایک پتھر کو بھیروں کے نامزد کر کے سیندور لگایا، پتھر کی پوجا کی گڑ اور چنے کا بھوگ لگایا بھیروں کی جے بولی تب پجاری نے زمین پر سات پھاوڑے مارے اس کے بعد مولویوں نے سات سات پھاوڑے مار کر کھلا شرک کیا، اب ان لوگوں کے پیچھے نماز وغیرہ کا کیا ہوگا؟ نیز ان لوگوں نے اس کی اجرت گیارہ گیارہ روپئے بھی لئے ہیں۔

جواب

شرک کی قباحت ومذمت تو کوئی چھپی ہوئی چیز نہیں بلکہ سب کو ہی معلوم ہے مگر صورت مسئولہ میں جسنے شرک کیا ہے وہ تو ہے ہی مشرک مسلمانوں نے تو یہ کام نہیں کیا لیکن جس مسلمان نے شرک کی اجازت دی یا اس کو پسند کیا یا ساتھ دیا اس نے بھی گناہ کا کام کیا، اگر معلوم تھا کہ یہ شرک ہے تو زیادہ خطرناک ہے، اگر یہ سمجھا کہ یہ کوئی خاص طریقہ ہے جو کنواں کھودنے کے وقت کیا جاتا ہے اور عدم واقفیت…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو