کیا کسی بات کا یقین نہ کرنا کفر ہے
سوال
چند آدمی جمع تھے ان میں سے ایک شخص حاجی نذیر احمد عرف چھوٹک زید کی شکایت وغیبت کر رہے تھے جن باتوں کا دین سے کوئی تعلق بھی نہیں اس پر میں نے کہا کہ جب آپ کے اور زید کے درمیان کشمکش اور نزاع کے بعد صفائی ہو گئی تو اس کے خلاف غیبت اور پروپیگنڈہ کیا کرتے ہیں یہ اچھی بات نہیں ہے اس پر حاجی نذیر احمد صاحب نے کہا کیا میں جھوٹ بول رہا ہوں میں نے کہا کہ میں جھوٹ سچ نہیں جانتا جو سن رہا ہوں اس کی بنا پر کہہ رہا ہوں اس پر حاجی نذیر احمد صاحب نے کہا کہ اگر تم میری بات پر یقین نہیں کرتے تو تم کافر ہو، واضح رہے کہ ان کے جملے…
جواب
اس مجلس کی یہ گفتگو نہایت خطرناک ہے فقہاء نے لکھا ہے، اگر کسی شخص نے کسی کا تذکرہ برائی کے ساتھ بطور غیبت کیا اس پر کسی نے منع کیا کہ غیبت نہیں کرنا چاہئے اس کے جواب میں اس برائی کرنے والے نے کہا کہ میں جو کچھ کہہ رہا ہوں وہ تو سچی بات ہے جھوٹ نہیں ہے یعنی گویا کہ اس برائی کرنے کو وہ شخص جائز قرار دے رہا ہے کیوں کہ سچی بات ہے جھوٹ نہیں ہے حالانکہ برائی کی جو سچی بات کہی جائے…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔