الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

غیر اللہ کے نام پر ذبح مشرکانہ عمل ہے

سوال

(۱) زید نے ایسے بُت اور مورتی کی منت مانی جس کو ہندو لوگ پوجتے ہیں اور ان پر چڑھاوا چڑھاتے ہیں۔ پھر چند سال کے بعد وہ اپنے لڑکے کے سر پر سے چوٹی اتروانے کیلئے ایک یا دو بکرے اسی بت اور مورتی کے نام سے مانے پھر وہاں ایک یا دو بکرے اسی بُت کے نام ذبح کئے۔ (۲) بکرا اس بت یا مورتی کا مانا ہوا تھا اور جہاں پر بُت اور مورتی ہے وہاں لے جا کر اپنے لڑکے کے سر پر سے چوٹی اتروا کر بغیر کسی کا نام لئے ذبح کیا اور ذبح کرتے وقت نہ اللہ کا نام لیا اور نہ کسی بت ومورتی کا نام لیا۔ (۳)

جواب

اس طرح نذر ماننا مشرکانہ طریقہ ہے جو کہ سخت معصیت ہے اور ایسا بکرا حلال نہیں، تینوں صورتوں میں حرام اور مردار ہے، قرآن شریف وحدیث شریف کا جو فیصلہ ہے وہ بالکل حق ہے اس پر ایمان لانا ضروری ہے، کسی کو اسکے خلاف فیصلہ دینے کا حق نہیں، مہمان کو اگر علم ہو کہ یہ کھانا غیر اللہ کے نام کا اور بت کی نذر کا ہے تو اس کو بھی کھانا حرام ہے، جو شخص بت کی پوجا کرے وہ اسلام سے خارج ہے، نہ اس…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو