قرآن پاک میں تحریف کرنے کا اقرار
سوال
۲۳ / دسمبر ۱۹۷۸ء کو شہر کٹک میں مناظرہ ہوا جس میں بریلی کے علماء نے ایک اشتہار نکالا جس میں قرآن پاک کی ایک آیت لکھی ہوئی تھی وہ غلط تھی۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ یہ کیا ہے، تو کہا کہ یہ اضافہ قرآنی ہے تحریف نہیں ہے۔ وہ آیت یہ ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ صاف تحریف کا اقرار کرنا شریعت مطہرہ میں کیسا ہے؟ ایسے آدمی کا ایمان رہا یا نہیں؟ جو لوگ سُن کر چُپ رہے اور اس کی تائید کی ان کا ایمان رہا یا نہیں؟ ان سے جو اولاد ہو گی وہ حلال ہوگی یا حرام؟
جواب
ایمان اور کفر دونوں اصالۃً قلبی چیزیں ہیں جن کا علم خود صاحب معاملہ ہی کو ہو سکتا ہے کچھ اور ایسے بھی ہیں کہ جن کو امارات قرار دیا گیا ہے کہ ان امارات پر حکم لگایا جا سکتا ہے کفر کا حکم لگانا انتہائی چیز ہے اس لئے قوی دلیل کی ضرورت ہے۔ حدیث پاک میں ارشاد ہے کہ جب کوئی شخص کسی کو کافر کہے اور وہ حقیقتا (بدلائل شرعیہ)
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔