الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

سید ہونے کی وجہ سے حرام کو حلال سمجھنا

سوال

ہمارے یہاں ایک سید ہے، اس نے ایک دن کہا کہ میں سید ہوں ہم شراب پیتے ہیں زنا کرتے ہیں حرام بھی ہمارے لئے جائز ہے اور ہمارے نانا یعنی حضور ﷺ ہماری شفاعت کر دیں گے لہذا آپ کو میرے حق میں کوئی بات کہنے کی گنجائش نہیں تو کیا اس قسم کے الفاظ بولنے سے یہ آدمی کافر ہو گیا یا نہیں؟ اور اس کے ہاتھ کا ذبیحہ جائز ہے یا نہیں؟

جواب

زنا اور شراب کی حرمت ضروریات دین میں سے ہے اسکا انکار کرنے سے ایمان سلامت نہیں رہتا کذا فی اکفار الملحدین اس لئے ان سید صاحب کو ایسا کہنا اپنے ایمان کو تباہ کرنا ہے سید ہونے کی حیثیت سے تو ان کو زیادہ طاعت لازم ہے حضرت نبی کریم ﷺ نے اپنی بیٹی حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کو خطاب فرمایا ہے کہ مجھ سے کچھ روپیہ پیسہ لینا ہو تو لے لو مگر اس گھمنڈ میں نہ رہنا کہ نبی کی بیٹی ہوں آخرت…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو