کیا قدوری کا درجہ صحاح سے بڑھا ہوا ہے
سوال
آپ نے میرے فتوی کا جواب بھیجا جس کا شکریہ لیکن میرے بزرگ مفتی صاحب نے جواب میں اپنی الٹی گنگا بہا کر اپنے بزرگوں کے بھی خلاف کیا، حدیث کی کتابیں ترمذی، موطا وغیرہ معتبر ہیں، ایسی حدیثیں ہیں جو منسوخ ہو چکی ہیں وغیرہ وغیرہ، اور کتب فقہ قدوری وغیرہ میں ایسے مسائل ہیں جو معتبر حدیثوں سے ثابت ہیں، ان پر عمل کرنے سے کسی منسوخ حدیث پر عمل نہیں ہوگا، یہ آپ کا تحریر فرما نا حق بجانب نہیں ہے، بلکہ اس کے خلاف امام شاہ ولی اللہ محدث دہلوی اپنی کتاب حجۃ اللہ البالغہ میں لکھتے ہیں، تفریعات فقہ کو ہمیشہ کتاب و سنت پر منطبق کرتے…
جواب
کیا تر مذی شریف میں ضعیف، منسوخ، متعارض احادیث موجود نہیں، حالانکہ امام ترمذی خود جگہ جگہ فرماتے ہیں ” ہذا حدیث ضعیف“ اس کا انکار تو وہی شخص کر سکتا ہے، جس نے ترمذی شریف کا بس نام ہی سنا ہے، پڑھا نہیں ہے، تب ہی حضرت شاہ ولی اللہ صاحب محدث دہلوی اور مولانا عبدالحی لکھنوی کے کلام کو اپنے استدلال میں پیش کرتا ہے، اگر عقد الجيد اسعاف، ازالۃ الخفاء کا مطالعہ ہی کر لیا ہوتا تو خلجان…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔