ترک نماز کا فتوی
سوال
اگر کوئی عالم دین مسجد میں جانا اور جماعت کی نماز پڑھنا اپنی آبادی میں ترک کر دے جب کہ صرف ایک ہی مسجد ہے، اور اذان اور جماعت وقت پر مسجد میں نہ ہو، بلکہ اکثر وقت اذان و جماعت ہوتی ہی نہ ہو، اور وہ عالم دین دوسرے گاؤں میں کبھی کبھی جاتا ہے لیکن دوسری جگہ فتویٰ بہت دیتا ہے کہ یہ جائز ہے یہ نا جائز ہے، تنخواہ حرام ہے لینا تو ایسے شخص کے فتویٰ پر عمل کیا جا سکتا ہے؟
جواب
فتویٰ جو بھی صحیح ہو وہ واجب القبول ہے، اگر اس کی صحت میں تردد ہو تو دوسرے معتمد حضرات سے تصدیق و توثیق کرالی جائے، ترک جماعت بلا عذر شرعاً نہایت قبیح و مذموم ہے، جو شخص دواماً اس کا تارک ہو وہ فاسق ہے کہ اس کی امامت مکروہ تحریمی ہے مسجد میں اذان و جماعت کا نہ ہونا بڑے وبال کی چیز ہے، تمام اہل بستی کو اس کا انتظام کرنا چاہئے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔