الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

Разрыв отношений из-за расхождения фетв о риба

سوال

احقر ۸۰ء میں دار الافتاء کا طالب علم تھا، اس زمانے میں سب حضرات کو معلوم ہے، کہ حضرت مفتی مہدی حسن صاحب اور نائب مفتی ہندوستان میں ربط کے متعلق گنجائش بتلاتے تھے، اور بینک وغیرہ کی شکلیں جس سے مسلمانوں کو فائدہ ہو جائز بتلاتے تھے، اس سلسلہ میں ایک مفصل فتویٰ حضرت مفتی صاحب نے لکھا تھا ۸۰ء کے رجسٹر میں درج ہے، اسی زمانے میں ایک استفتاء ربوی کے متعلق بھی آیا تھا، میں نے حضرت امام ابو یوسف کے مطابق جواب لکھا تھا حضرت مفتی صاحب نے اس کو کاٹ دیا تھا، اس بناء پر جو لوگ مسئلہ پوچھتے تھے، وہ مفتی صاحب والی بات نقل کر دیا…

جواب

اصل مقصد اصلاح ہے اگر تعلق و ملاطفت سے اصلاح متوقع ہے تو ترک تعلق نہ کیا جائے، کبھی ایسا ہوتا ہے کہ ترک تعلق سے طبیعت میں ضد پیدا ہو جاتی ہے، اور اس کا نتیجہ شر و فساد ہوتا ہے، کبھی ترک تعلق مفید ہوتا ہے، اس لئے معاملہ سہل ہے مگر صرف تعلق پر اکتفاء نہ کیا جائے، بلکہ آہستہ آہستہ اصلاح بھی لازم ہے، ورنہ یہ تعلق مداہنت بن کر رہ جائے گا، جو لوگ اصل حال بتا کر اپنے معتقد سے دیانت…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو