الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

Фетва суннитского муфтия по наследству у шиитов

سوال

اگر کوئی حنفی مفتی شیعوں کے مسائل میراث سے واقف ہو تو وہ استفتاء جس میں مورث اعلیٰ شیعہ ہو اور باقی مورث و وارث سنی ہوں یا مورث اعلیٰ سنی ہو اور بقیہ مورث و وارث خواہ کل شیعہ ہوں خواہ بعض شیعہ و بعض سنی پس ایسی صورت میں سنی مفتی ایسے استفتاء کا جواب کس طرح لکھے آیا اصل میں اپنے اصول کے موافق لکھے یا مورث شیعہ کے ترکہ و حصے کو اصول تشیع کے موافق اور مورث حنفی اور سنی کے ترکہ وحصہ کو اصول حنفیت کے موافق یا کیا صورت ہوگی جو صورت ہو مدلل تحریر فرمائیں۔

جواب

جو فرقہ شیعہ کا کافر ہے اسکی رعایت کرتے ہوئے جواب دینا شرعاً درست نہیں بلکہ جو اسباب میراث اہل اسلام کے نزدیک معتبر ہیں انہیں اسباب کے ماتحت ان کو بھی جواب دیا جائے گا۔ الكفار يتوارثون فيما بينهم بالاسباب اللتي يتوارث بها اهل الإسلام فيما بينهم من النسب والسبب اه عالمگيرى ص ۴۵۴ جلد سادس، الباب السادس فی میراث اہل الکفر اور جو فرقہ کافر نہیں بلکہ مسلم ہے اس کو بھی حنفی سنی اپنے…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو