الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

کسی دوسرے خریدار کو دھوکہ دینے کے لئے قیمت میں کمی زیادتی کرنا

سوال

خالد پاکستان میں بکریوں کا کاروبار کرتا ہے، اور دلالی وصول کرتا ہے، دلالی دو قسم کی ہوتی ہے: (۱) بکری والے سے یہ طے کرے کہ میں تیری بکری فروخت کرادوں گا اور ہر بکری پر پچاس روپئے مجھے چاہئے، اس پر اتفاق ہو جائے، اور جتنی بکری بکوائے ہر ایک کے بدلے پچاس روپے بکری والے سے وصول کرلے۔ (۲) دوسری قسم جو آج کل عام ہے، بکری والا بازار میں کھڑا ہے، ایک طرف دو آدمی اس بکری کو خرید نا چاہتے ہیں وہ قریب میں کھڑے ہیں، پہلے وہ بکری کی قیمت بھی معلوم کر چکے ہیں، بکری کی اصل قیمت ۴۰۰ روپئے سے زائد نہیں، دو آدمی آتے ہیں بکری والا…

جواب

پہلی قسم جائز ہے، دوسری قسم دھوکہ اور فریب کا معاوضہ ہے، نا جائز ہے،حدیث پاک میں ایسے فریب کی ممانعت وارد ہے۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو