بائع اور مشتری کی طرف سے دلالی
سوال
ہمارے ایک دوست کے والد صاحب ہیں ان کا دھندہ دلالی کا ہے اس میں ایسا ہوتا ہے کہ کسی کو گھر چاہئے یا زمین تو بیچنے والا یہ کہتا ہے کہ اگر تم یہ زمین یہ گھر کا گاہک لا دو تو تم کو سو روپیہ پر ایک روپے یا ایک اتنے روپے دوں گا، اور جس کو ضرورت ہوتی ہے وہ یہ کہتا ہے کہ اگر کوئی گھر ہو تو ڈھونڈو میں سو روپیہ پر ایک یا دو روپیہ دونگا، اس میں گھر ڈھونڈ نے میں دکھانے میں معاملہ کروانے میں اور اگر سودا ہو جائے تو کورٹ وغیرہ کے رجسٹری کاموں میں کافی وقت لگتا ہے، اور محنت اور وقت بھی خراب ہوتا ہے، اب سوال یہ ہے کہ اس میں جو…
جواب
یہ آمدنی درست ہے اس کو اپنے کام میں لانا صحیح ہے، ایسی آمدنی پر حسب قواعد شرع حج بھی فرض ہو سکتا ہے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔