الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

سود سے بچنے کے لئے دلال کی اجرت میں اضافہ

سوال

ایک تاجر کچھ کپڑے کا بیو پار کرتا ہے، اور وہ دہلی جا کر دلال کی معرفت کپڑا خریدتا ہے، اور وہ دلال کو مبلغ ایک سو روپیہ سیکڑہ آڑت یا مزدوری دیتے ہیں، اور اگر کچھ روپیہ ادھار رہتا ہے، تو وہ اس پر سیکڑہ کی سود لگاتے ہیں کیونکہ دلال لوگ بازار سے مال خریدتے ہیں، اگر بازار والوں کے روپیہ رہتے ہیں تو وہ ان سے سود لیتے ہیں، اور دلال لوگ ہم لوگ سے لیتے ہیں، اب اگر ہم بجائے سود کے انکی آڑت یا مزدوری بجائے ایک روپیہ کے سوا روپیہ یا ڈیڑھ روپیہ دیویں اور یہ کہہ دیں کہ ہم سود نہیں دیں گے، ہم اگر وہ آڑت یا مزدوری ایک روپیہ میں…

جواب

طریقہ مروجہ پر دلال کی اجرت نا جائز ہے، جواز کی صورت یہ ہے دلال کو مثلاً ایک دن یا آدھے دن کے لئے اجرت طے کر کے بطور مزدور کے رکھ لیا جائے، اور اس دن میں اس سے کپڑا خرید والیا جائے، اور اجرت مقررہ دیدی جائے، اب خریدار اور دلال آپس میں اجرت جو چاہیں طے کر لیں، اس میں کوئی مضائقہ نہیں۔ کذافی سكب الانهر

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو