الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

نیلام کمیشن پر

سوال

(۱) میرے ایک عزیز دوست نے ایک آڑتھ (فرم) از قسم میوہ جات پھل وغیرہ کی کھولی ہے، یعنی وہ کمیشن ایجنٹ ہیں کہ جو مال لوگ ان کی دوکان آڑتھ پر فروخت کرنے کو لاتے ہیں تو اس مال پر اپنے ملازموں سے بولی بلوا کر فروخت کراتے ہیں، جس بیو پاری کی بولی زیادہ رقم کی ہوتی ہے، اور مالک اس پر رضامند مال دینے پر ہوتا ہے، اس خریدار (بیو پاری) کے نام بولی ختم کر کے مال اس بیو پاری کو دیدیتے ہیں، پھر اس روپیہ کولیکر ایک مالک مال کو ادا کرتے ہیں، اور اگر بیو پاری کے پاس اس وقت ادا کرنے کے لئے روپیہ نہیں ہے، تو مالک آڑتھ (فرم)

جواب

(۱) جائز ہے۔ (۲) یہ سود نہیں ہے، بلکہ دلالی کی اجرت ہے جس کو شامی میں درست لکھا ہے۔ (۳) یہ روپیہ ملک میں داخل ہے حسب قواعد شرعیہ دیگر مملوکہ روپیہ کی طرح اس پر زکوۃ لازم ہوگی۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو