نیلام کی ایک صورت
سوال
سوتی گنج میرٹھ میں ایک چھوٹی سی کباڑی مارکیٹ ہے، جس میں موٹروں کے پرزے نیلام ہوتے ہیں، اب ان کی یونین بن گئی ہے، کیونکہ پہلے لوگ مال اُدھار لے جاتے تھے، اور پیسہ نہ دیتے تھے، اس سے چھوٹے تاجر بہت پریشان ہوتے تھے، اب یونین بنائی گئی ہے، جس کے دوسوممبران ہیں جو پانچ پانچ روپیہ ماہوار دیتے ہیں، اس طرح جو روپیہ جمع ہوتا ہے اس سے یونین فروخت کنندہ کے مال کو آڑھت کے طریقہ پر نیلام کرتی ہے، اور قیمت جو آخری ہوتی ہے، اس میں سے پانچ پیسہ فی روپیہ کے حساب سے کاٹ کر باقی فروخت کنندہ کو فوراً دیدیتی ہے، اور خریدار پر لازم…
جواب
از ارتا ۴ / نیلام میں آخری بولی پر یونین قیمت اپنے پاس سے ادا کرتی ہے، تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ یونین خود خریدار ہے، اور بولی بھی یونین ہی بولتی ہے، تو بائع بھی یہی ہے یعنی بائع کی طرف سے وکیل ہے، یہ طریقہ غلط ہے، نیز مال فروخت ہو جائے، اور خریدار کا قبضہ ہو جانے کے بعد پندرہ روز میں قیمت وصول نہ ہونے پر پانچ پیسہ فی روپیہ جرمانہ وصول کرنا بھی جائز نہیں، کیونکہ یہ سود ہے،…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔