الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

دلالی کا حکم

سوال

دلالی کی ایک شکل تو یہ ہے کہ زید سے بائع و مشتری دونوں الگ الگ کچھ رقم دینے کو کہیں مثلاً بائع نے تو یہ کہا کہ اگر ہمارا پھل سو روپے کا بکوا دو گے تو پانچ روپیہ ہم تم کو دیں گے، اور مشتری نے کہا کہ اگر یہ پھل ہم کو ایک سو پانچ روپیہ میں خریدوا دو گے تو ہم پانچ روپیہ تم کو دیں گے، تو دلال کو پانچ پانچ روپیہ بائع اور مشتری دونوں کی جانب سے ملے اس کے علاوہ ایک سو پانچ میں سے پانچ اور ملے تو اس تیسری رقم کا کیا حکم ہے؟

جواب

دلال سوروپے میں خرید کر ایک سو پانچ روپیہ میں بیچدے تو یہ جائز ہے، مگر اس صورت میں صرف پانچ روپیہ کا نفع ہوا اور یہ دلالی کی صورت نہیں ہوئی، دلالی یہ ہے کہ بائع و مشتری کے درمیان معاملہ کرایا جائے، اس میں بائع و مشتری دونوں کو ثمن (قیمت)

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو