الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

نائی کی اجرت

سوال

ایک مقرر صاحب نے ایک تقریر میں یہ فرمایا کہ بال بر کی اجرت حرام ہے جب سے احقر نے یہ سنا ہے بے حد پریشان ہے احقر کا یہی پیشہ ہے، لہذا اپنی کمائی خیر خیرات کرتا اور زکوۃ دیتا ہے، مسجد اور مدرسہ میں حتی الامکان اپنا روپیہ صرف کرتا ہے، اور نیز کھانا پینا پہننا سب اسی کمائی سے ہی ہوتا ہے؟

جواب

بال براگر شریعت کے مطابق سرمونڈتا لبیں بناتا بغلیں مونڈتا، ناخن تراشتا ہے، تو اس کی اجرت حرام نہیں بلکہ جائز ہے، شاید لفظ حجام سے شبہ ہوا ہوگا، اس کی اجرت کو حدیث میں خبیث فرمایا گیا ہے، وہاں حجام بال بر مراد نہیں بلکہ پچھنے لگانے والا مراد ہے، عربی میں بال بر کو حجام نہیں کہتے، بلکہ حلاق کہتے ہیں اور حجام پچھنے لگانے والے کو کہتے ہیں، البتہ داڑھی مونڈنا بال بر کے لئے بھی نا…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو