الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

کیا نائی کی مزدوری حرام ہے

سوال

نائی کی روزی حرام بتائی جاتی ہے، کیوں بتائی جاتی ہے؟ مفصل تحریر فرمائیں، اگر نائی کی روزی حرام ہے، تو اس سے چندہ لے کر مدارس دینیہ ومساجد میں کیوں لگایا جاتا ہے، بے نمازی کی روزی بھی حرام ہے، اور بے نمازی مسجد اور مدرسہ میں چندہ کی رقم دیتا ہے، لینے والے شخص کو خوب معلوم ہے کہ یہ بے نمازی ہے، پھر اس سے پیسہ کیوں لیا جاتا ہے، نیز مدارس میں نمازی بے نمازی سب کا پیسہ جاتا ہے، ان یتیم بچوں کو حرام غذا کھلا کر تعلیم حاصل کراتے ہیں، ایسا کیوں ہے؟

جواب

جونائی سرمونڈھتا ہے، مونچھیں صحیح طریقہ پر بنا تا ہے، ناخن تراشتا ہے،اوراس پر اجرت لیتا ہے، تو اسکی کمائی حرام نہیں ہے آپ کو کہاں سے معلوم ہوا کہ نائی کی روزی مطلق حرام ہے، جو شخص شریعت کے مطابق تجارت زراعت وقت مزدوری سے روزی کماتا ہے، وہ حرام نہیں، اگرچہ نماز نہ پڑھنے کی وجہ سے ایسا شخص گناہ کبیرہ کا مرتکب ہے لیکن اس کی وجہ سے اس روزی کو حرام نہیں کہا جائے گا، جبرا پیسہ لینا…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو