الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

کارخانہ شراب کی ملازمت

سوال

کارخانہ شراب جہاں کئی ہزار من شراب روز آنہ شیرہ وغیرہ سے پک کر تیار ہوتی ہے، اور یہاں سے ہندوستان کے اکثر شہروں میں بذریعہ برانڈی اور دیگر ذرائع سے روانہ کیجاتی ہے، اس میں مسلمانوں کو بطور مزدور محرر، مثلاً شراب کی مشین چلانا، بوتلیں صاف کرنا، شراب کے لئے صندوق، ڈبہ، کنستر بنا نا اپنی لاری، ٹھیلہ، بیل گاڑی یا سر پر لاد کر قرب و جوار یا مثلاً دہلی، حصار لاہور، انبالہ، وغیرہ لے جانا، مسلمانوں کو جائز ہے یا نہیں، اگر نا جائز ہے تو مکروہ ہے یا حرام، اور قرآن کریم کا حکم (ولا تعاونواعلى الاثم والعدوان)

جواب

یہ کارخانہ اگر مسلمان کا ہے تو اس کی یہ سب ملازمتیں حرام ہیں، موٹر وغیرہ کے ذریعہ سے لیجانا اور مزدوری لینا بھی حرام ہے، اگر یہ کارخانہ کافر کا ہے، تو ملازمتیں مکروہ تحریمی ہیں، شراب کی بیع و ملازمت وغیرہ میں مسلم اور کافر کا حکم یکساں نہیں، بلکہ علیحدہ علیحدہ ہے، عن أَنَسٍ قَالَ لَعْنَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ فِي الْخَمْرِ عَشَرَةً، عَاصِرَهَا وَمُعْتَصِرَهَا وَشَارِبَهَا.

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو