وعظ پر نذرانہ
سوال
یہاں کے لوگ قدیم رسم کے مطابق واعظ اور مقرر کو کچھ نہ کچھ وعظ کے بعد روپیوں کی شکل میں ہدیہ دیتے ہیں، تحقیق کرنے پر معلوم ہوا کہ وعظ پر نہیں بلکہ خوشی سے دیتے ہیں، اور واعظین اپنی طرف سے معین و مقرر نہیں کرتے، اور لوگوں نے بھی معین نہیں کئے، بلکہ کبھی تین اور کبھی پانچ اور کبھی دس روپیہ دیتے ہیں، پھر بھی بندہ کو خصوصی تشویش ہے، کیونکہ اگر لوگ خوشی سے دیتے تو تقریر سے پہلے دیتے، تقریر کے بعد ہی کیوں دیتے ہیں، کیا یہ جائز ہے؟ تعیین یا غیر تعیین طور پر وعظ ونصیحت پر روپیہ لیا جا سکتا ہے؟
جواب
آپ کی تشویش صحیح ہے، اگر اس تشویش کی بناء پر آپ قبول نہیں کریں گے تو ماجور ہوں گے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔