الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

ہبہ کے بعد موہوب لہ کا انتقال واہب کی حیات میں

سوال

زید کے چار لڑکے اور ایک لڑکی اور ایک مرحومہ لڑکی کا بیٹا (زید کا نواسہ) موجود ہے، زید نے اپنی حیات میں عاریہ اپنے چار بیٹوں اور ایک بیٹی اور ایک نواسہ کو تقسیم ترکہ نامزد قرار دیدیا، اب زید کی موجودگی میں موجودہ لڑکی کا انتقال ہو گیا، اس لڑکی کا خاوند اس کے حصہ میں سے کس قدر مال کا مستحق ہو سکتا ہے یا بالکل نہیں؟ بینوا وتوجروا۔

جواب

عارية تقسیم ترکہ نامزد قرار دینے کا کیا مطلب ہے؟ اگر اس سے مراد وصیت ہے یعنی زید نے وصیت کی ہے کہ میرے مرنے کے بعد میرا ترکہ اس طرح تقسیم کرنا تب تو یہ وصیت ہی ناجائز ہے، کیونکہ اس میں ورثہ کے حق میں وصیت کی گئی ہے، اور وارث کے حق میں بلا اذن دیگر ورثہ وصیت نافذ نہیں ہوتی ہے البتہ نواسا، چونکہ اس صورت میں وارث نہیں اس کے حق میں وصیت درست ہے، مگر اس کے نفاذ کا حکم زید کے مرنے…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو