مرحوم بیٹے کی بیوہ کو ہبہ
سوال
زید کے چار لڑکے ہیں نور محمد، بھائی رمضان، فیض محمد، اور ولی محمد، نورمحمد کا انتقال زید ہی کی زندگی میں ہو گیا، اس کے بعد زید نے اپنی پوری زمین اپنے تینوں لڑکوں اور نورمحمد کی بیوہ عورت کے درمیان تقسیم کر دی، پھر زید کا انتقال ہو گیا، اس کے تقریباً دس بارہ سال بعد اس کے تینوں لڑکے اس بات کے مدعی ہوئے کہ زید کی زمین میں بیوہ عورت کا کوئی حق نہیں پہنچتا، لہذا زید نے جو زمین بیوہ عورت کو دی ہے، وہ ہم کو ملنا چاہئے،لہٰذا اس بیوہ کا حق زید کی دی ہوئی جائیداد میں پہنچتا ہے کہ نہیں؟ معاملہ کورٹ تک پہنچ چکا ہے؟
جواب
جو زمین زید نے اپنے تینوں لڑکوں اور ایک مرحوم لڑکے کی بیوہ کو ہبہ کر کے تقسیم کر دی اور اپنا قبضہ ہٹا کر ان کا قبضہ کرا دیا، تو وہ ان سب کی حسب تقسیم ملک ہو گی کہ اب وہ زید کا ترکہ نہیں ہے، بیوہ کو جو کچھ دیا گیا، ہے اس سے واپس لینے کا حق نہیں، البتہ انتقال زید کے وقت جو ترکہ باقی رہا اس میں مرحوم لڑکے کی بیوہ کو بحیثیت میراث کچھ نہیں ملے گا۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔