حرام حلال مخلوط روپے کا ہبہ
سوال
زید کا باپ تجارت کرتا ہے، وہ تجارت شرع شریف کے بالکل خلاف ہے، مثلاً جھوٹ بولتا ہے، کم دیتا ہے، زیادہ لیتا ہے، اور بہت سی دھوکہ بازیاں کرتے ہیں، جیسے کہ آج کل تجارت چل رہی ہے، کہ کوئی مسئلہ کا لحاظ نہیں کرتا، جس طرح جی میں آتا ہے، کر دیتا ہے، اب معلوم یہ کرنا ہے کہ زید کا باپ وہ روپیہ جتنا مناسب سمجھتے ہیں، زید کو دیدیتے ہیں، اور باقی سے اپنا کام چلاتے ہیں، تو یہ روپیہ زید کا لینا جائز ہے یا نہیں، اور اگر یہ نا جائز ہے اور زید لحاظ میں لے لیتا ہے، تو اب اس کو مسکینوں میں خیرات کر دے یا قطعی ان سے نہ لے اور صاف منع…
جواب
اگر زید کا باپ خالص حرام و ناجائز روپیہ مثلاً رشوت، سود، غصب وغیرہ کا روپیہ زید کو دیتا ہے، یا ایسا مخلوط روپیہ دیتا ہے، جس میں زیادہ حرام ہے، اور کم حلال تو زید کو اس کا لینا جائز نہیں صاف انکار کر دے، اگر کسی وجہ سے لے لیا ہے، تو واپس کر دے، اگر واپس نہیں کر سکتا تو خود اپنے صرف میں نہ لائے بلکہ جن سے باپ نے لیا ہے، ان کو واپس کر دے وہ موجود نہ ہو تو ان کے ورثہ کو دیدے اگر…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔