عمریٰ
سوال
ہندہ کے بطن سے زید کے تین بچے (دو لڑکے ایک لڑکی پیدا ہوئی) اس کے بعد ہندہ کا انتقال ہو گیا، تو زید نے دوسری شادی کی اس سے چار لڑکے ہوئے زید نے دوسری بیوی کو کچھ زمین دی اور کہا کہ جب تک تم زندہ رہو گی، اس زمین سے کھاؤ گی، اور بعد میں یہ زمین میری اولاد کی ہو جائے گی، اس کے بعد زید کا انتقال ہوا، پھر دوسری بیوی کا انتقال ہوا تو اس زمین کی مستحق زید کی دونوں بیویوں کی اولاد ہوگی، یا صرف دوسری بیوی کی اولاد، اول بیوی کی اولاد کو کوئی زمین نہیں دی جائے گی، یا کوئی تیسرا اس زمین کا مستحق ہوگا؟ مدلل تحریر فرمائیں :
جواب
اگر اس زمین پر دوسری بیوی کا قبضہ کرا دیا اور اپنا قبضہ اٹھا لیا تو وہ زمین اس دوسری بیوی کی ہوگئی، اس کے انتقال کے بعد اس کے وارثوں کو ملے گی، اگر اس کے وارث صرف چار لڑکے ہیں تو وہ چاروں اس میں برابر کے حصہ دار ہوں گے، پہلی بیوی ہندہ کے بطن سے جو تین بچے ہیں، ان کو اس میں حصہ نہیں ملے گا۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔