الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

مالک اپنی زندگی میں جس ہونے والے وارث کو جو کچھ دیدے وہ اسکا ہے

سوال

زید کے پاس اس کے باپ دادا کی چھوڑی ہوئی، جو زمین ہے اس کے تین حصے کر رہے ہیں، ایک حصہ بڑے لڑکے بکر کو دے رکھا ہے، جو عرصہ ۲۰ سال ہوا الگ کھیتی کر رہا ہے، ایک چھوٹے لڑکے عمرو کو دے رکھا ہے، اور اپنا حصہ چھوٹے لڑکے کے ساتھ شامل کر کے کاشت کر رہا ہے، اب بڑا لڑکا اس بات پر بضد ہے کہ تمہارا جو تیسرا حصہ ہے، اس کے نصف حصہ میں میں کاشت کروں گا، یعنی جائیداد کے دو حصے کر کے دونوں بھائی کاشت کریں گے باپ نے کہا جب تک میں زندہ ہوں اپنے حصے پر قابض ہوں، بعد میرے مرنے کے دونوں تقسیم کریں، اس کا جواب جلد دیں اور فرمائیں کہ میری…

جواب

بڑے لڑکے کو ضد کرنے کا حق نہیں، آپ نے جو کچھ اپنی زندگی میں دے دیا وہ بھی آپ کا احسان ہے، بلا تکلف اپنا حصہ آپ چاہے جس لڑکے کے ساتھ رکھیں، یا الگ رکھیں کوئی اعتراض یا زبردستی نہیں کر سکتا۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو