الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

ہبہ مشاع کی ایک اور صورت

سوال

زید کی ہندہ سے سوائے ایک لڑکی کے کوئی اولاد نہ تھی، اس لئے اس نے اپنی زندگی کا نباہ پار کرنے کے لئے عمر کو اپنا لڑکا بنالیا، عمر ہوش سنبھالتے ہی زید کی کما حقہ خدمت گذاری میں مصروف رہا، اس سے خوش ہو کر زید نے اپنا زرخرید نصف مکان عمر کو ہبہ کر دیا، عمر نے اپنی آمدنی سے اس کی از سرنو تعمیر کی، پھر زید نے عیش و آرام کی زندگی پانے کی وجہ سے آخری عمر میں بقیہ نصف مکان بھی چند گواہوں کے سامنے ہبہ نامہ تحریر کر دیا تا کہ عمر کو بوقت ضرورت کام آئے، اور زید نے اپنی لڑکی کی شادی کر دی، وہ اپنی سسرال رہتی ہے، زید کے انتقال…

جواب

مکان اگر اتنا بڑا ہے کہ نصف نصف کر کے تقسیم کر دیا جائے تو دونوں حصوں سے انتفاع ہو سکتا ہے، اور پھر زید نے تقسیم کر کے عمر کا قبضہ نصف پر نہیں کروایا، بلکہ حسب سابق زید بھی مالکانہ حیثیت سے رہتا رہا، اور عمر بھی رہتا رہا، تو یہ نصف کا ہبہ فاسد صحیح نہیں ہوا، پھر آخری عمر میں جو دوسرا بقیہ نصف ہبہ کیا ہے، اگر وہ مرض الموت میں ہبہ کیا ہے، تو وہ بھی صحیح نہیں ہوا، عمر نے اپنی…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو