الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

ہبہ مشاع

سوال

مسماة لطيف النساء زوجه قاضی محمد رزق اللہ صاحب مرحوم المغفور نے اپنی زندگی میں بحالت قائمی حواس خمسہ رو برو چند اشخاص معتمد قوم و عزیزان خود اپنے سوتیلے بیٹے مسمی محمد ثناء اللہ صاحب سے یہ فیصلہ کیا تھا، کہ جو ترکہ مجھے تیرے باپ سے آٹھویں سہام کی رو سے پہنچتا ہے، اور جو میرا مہر واجب ہے، وہ میں تجھ کو دیتی ہوں، اور جو ترکہ میرے والدین سے مجھے پہنچتا ہے، وہ میں اپنی بہن کی اولاد کو دیتی ہوں اس میں تمہارا کوئی حق نہیں اور جو کہ میں تمہیں دے چکی ہوں، اس میں ان کا کوئی حق نہیں فریقین نے اسی فیصلہ کو منظور کر لیا، اور…

جواب

صورت مسئولہ میں عقد ہبہ ہے مقسوم کا ہبہ قبضہ سے تمام ہو جاتا ہے، پس اگر فریقین کا حصہ تقسیم ہو کر ان کے قبضہ میں آچکا ہے تو یہ ہبہ صحیح اور تام ہے کاغذات میں اگر انداراج غلط ہے تو شرعاً اس کا اعتبار نہیں ہے، اصل چیز یعنی قبضہ ہر فریق کا اپنے حصہ پر موجود ہے، کاغذات کے اندراج کو صحیح کرالیا جائے، اگر فریقین کا حصہ تقسیم ہو کر ان کے قبضہ میں نہیں آیا، بلکہ بلا تقسیم ہبہ کر کے…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو