الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

جبراً اغلام بازی

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس بارے میں کہ ہم نے اس سے قبل آپ کے یہاں کا فتوے بابت ۱۹ رمئی ۱۹۷۱ء دیکھا اس میں مدعی کا تو معلوم نہیں کیا مضمون آپ کے پاس تحریر کیا مگر آپ کی تحریر یہ ہے کہ اگر مذکورہ شخص اغلام کو معیوب نہ سمجھے یا اور کچھ لفظ تھا جوسمجھ میں نہیں آیا تو کسی اچھے باورچی کا انتظام کر لو اور وہ میں ہوں، میں گناہ سے تائب ہوں میرا سوال یہ ہے کہ وہ فتویٰ منگانے والا شخص جہاں میں باورچی کا کام کرتا ہوں منتظم ہے بھنڈار خانہ میں جہاں چالیس پچاس آدمی کھانا کھاتے ہیں، اور میں خانسامہ کا کام کرتا ہوں تقریباً دوسال…

جواب

محترمی۔۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاته اغلام کرنے والا اور کرانے والا دونوں سخت گنہگار ہیں بہت بڑے مجرم ہیں، دنیا اور آخرت میں اس کمینہ حرکت کا بہت بڑا وبال ہے، دونوں کو توبہ ضروری ہے، آپ اس شخص سے اپنا تعلق بالکل ختم کر دیں جو آپکو اس حرکت پر مجبور کرتا ہے، ہرگز اس کا کہنا نہ مانیں ملازمت چھوٹتی ہے تو چھوٹ جائے اگر وہ بد نام کرے گا تو اس کا مستقل گناہ ہوگا، اگر وہ وہاں رہ…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو