الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

مقتول اور قاتل کی مدد کرنا

سوال

ایک مسلمان کو چند مسلمانوں نے مل کر قتل کر دیا، اب چند مسلمان قاتلوں کی جانی و مالی امداد کر رہے ہیں، ان کیلئے کیا حکم ہے؟ جبکہ مقتول بظاہر بے گناہ ہے، ایسی صورت میں قاتل کی مدد کی جائے یا مقتول کے ورثاء کی مدد کی جائے۔ از روئے شرع جواب دیں۔

جواب

ناحق قتل کرنا جرم عظیم ہے ظلم کا ساتھ دینا اور اس کی مدد کرنا بھی سخت گناہ ہے۔ لِقَوْلِهِ تَعَالَى تَعَاوَنُوا على البر والتقوى وَلَا تَعَاوَنُوا عَلَى الْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ، الآية اس کی سزا دنیا میں بھی ملتی ہے اور آخرت میں بھی۔ مظلوم کی مدد کرنا حسب حیثیت لازم ہے۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو